ابنا: ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیراہتمام دوسری عالمی اتحاد امت کانفرنس کا انعقاد اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔ کانفرنس میں کونسل کی نمائندہ جماعتوں کے وفود کے ساتھ ساتھ ایران اور افغانستان سے بھی مندوبین نے شرکت کی۔
ایرانی وفد میں آقائے سید مہدی علیزادہ موسوی، سیکرٹری جنرل کنگرہ مبارزہ با جریان ہائے تکفیری اور حجۃ الاسلام دکتر محمود وزیری شریک تھے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے درمیان موجود مختلف فرقے امت مسلمہ کی ہمہ جہتی کی واضح مثال اور امت کے مختلف رنگ ہیں۔ دشمنوں کی سازشوں سے یہ رنگ مدھم پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری عوام دین سے نابلد ہے۔ جنرل ضیاء نے فوج میں آپریشن صلوٰۃ کا آغاز کیا، ہر یونٹ میں وردی والا امام پیش کیا گیا۔ لیکن فوج میں 60 فیصد دین سے بالکل نابلد تھے۔ ایف اے، بی اے پاس 50 فیصد کو بھی نماز تک پڑھنی نہیں آتی تھی۔ اسی طرح ہمارے سکولوں میں دین کی تعلیم واجبی سی دی جاتی ہے۔
سابق آرمی چیف نے واضح کیا کہ افواج پاکستان کی ذمہ داری صرف ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری علماء کرام پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن ہماری دینی جماعتیں ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہیں۔ تمام مسالک اسلام کے مختلف رنگ ہیں، تمام رنگ اچھے ہیں لیکن ایک رنگ اللہ کا رنگ ہے جو سب سے بڑھ کر ہے۔ اللہ نے کہہ دیا کہ مظلوموں کی حمایت اور مدد کرو، اب مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے کسی قسم کے فتویٰ جہاد کی ضرورت نہیں۔
علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ فرقہ واریت جیسے زہریلے پروپیگنڈے کے باعث امت مسلمہ کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ کم خواندہ اور ناخواندہ لوگ قوم کو آپس میں لڑانے کے درپے ہیں۔ آج فلسطین، بحرین، افغانستان اور شام میں مسلمانوں کی عزت اور جان محفوظ نہیں۔
جماعتِ اسلامی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اُمتِ مسلمہ پوری انسانیت کے لیے تیار کی گئی ہے۔ آج 65 لاکھ سے زیادہ افواج اور دنیا کے ایک بہت بڑے حصے کے مالک ہونے کے باوجود مسلمان دنیا بھر میں غیروں کی سازشوں کا شکار ہیں اور ہر طرف مسلمانوں ہی کی لاشیں اٹھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 35 سال سے مسلمان دو سپر پاورز سے نبرد آزما ہیں، اور دونوں عالمی طاقتیں مسلمانوں سے شکست کھا چکی ہیں۔ اب یونی پولر ورلڈ کے خلا کو کسی نے پر کرنا ہے۔ جاپان یا چائنہ اور سب سے بڑھ کر اُمت مسلمہ نے اس خلا کو پر کرنا ہے۔ دشمنانِ اسلام کی طرف سے عالمِ اسلام کو باہم لڑا کر تقسیم کرنے کی باتیں ریکارڈ پر موجود ہیں اور اس مقصد کے لیے خاص طور پر اسلامی تحریکیں نشانہ پر ہیں۔
.......
/169